/ ایم این نیوز / 






تازہ ترین اخبار                                                                    ۔

                                2 اکتوبر 2023ء قومی ٹیم کے فاسٹ بولر حارث رؤف نے انکشاف کیا ہے. 

                             .کہ کرکٹ کھیلنے کیلئے انہوں نے اپنے والد سے دن میں کئی مرتبہ ماریں کھائیں


، 

نمکو بیچ کر سکول فیس ادا کی ۔ ای ایس پی این کرک انفو نے مایہ ناز پیسر کی کرکٹ میں جدوجہد پر ایک ڈاکیومنٹری تیار کی ہے جس میں 29 سالہ فاسٹ بولر نے اپنی زندگی کی ابتدائی مشکلات پر گفتگو کی۔ حارث رؤف کا کہنا تھا کہ میں 7 بہن بھائیوں میں سب سے بڑا ہوں، میرے والد ویلڈر کا کام کرکے اپنے بچوں کا پیٹ پالتے تھے


۔ حارث رؤف نے کہا کہ میرے والد اور تین چچا سب ایک ہی چھوٹے گھر میں رہتے تھے، چاچاؤں کی شادی کے بعد والد نے انہیں سارے کمرے دے دیئے اور حالات ایسے آگئے کہ ہمیں کچن میں بھی سونا پڑا۔ حارث رؤف نے مزید کہا کہ میں 4،5 سال کی عمر سے کرکٹ کھیل رہا ہوں۔ ایک گلی میں کرکٹ کھیلنے سے منع کرتے

 تو دوسری اور وہاں سے تیسری گلی میں چلے جاتے تھے۔ حارث رؤف نے کہا کہ سکول کے زمانے میں اتوار کو ایک بازار میں نمکو بیچ کر اپنی فیس کے پیسے جمع کرتا تھا۔ انہوں نے 

کہا کہ مجھے انڈر 16 اور انڈر 19 کے بارے میں کچھ معلومات نہیں تھیں۔ گھر سے سپورٹ نہ ہونے کے باعث کلب کرکٹ کے اخراجات برداشت نہیں کرسکتے تھے۔ حارث رؤف نے کہا میں ٹیپ بال کرکٹ اس لیے 

کھیلتا تھا تاکہ اپنی یونیورسٹی کی فیس نکال سکوں کیوں کہ میرے والد اس قابل نہیں تھے 


کہ مجھے پڑھا سکتے، پاکستان میں ٹیپ بال کرکٹرز مہینے کے دو ڈھائی لاکھ روپے آسانی سے کمالیتے ہیں۔ حارث رؤف کا کہنا تھا کہ اپنی ٹیپ بال کرکٹ کی کمائی کے بارے میں والد کو نہیں بتایا تھا لیکن امی کو پیسے دے دیتے تھے اور باقی پیسے جمع کرلیتے تھے کیونکہ والدہ کی خواہش تھی کہ ہمارا اپنا گھر ہو۔ حارث رؤف نے کہا اب میرے پاس ایک گھر اور گاڑی ہے


۔ جب میں نے گاڑی خریدی تو میرے والد رونے لگے اور کہا کہ ان کی اس گاڑی میں بیٹھنے کی بھی حیثیت نہیں ہے، اگر میرا خاندان خوش ہے تو میں خوش ہوں، یہ میرے لیے بہت فخر کی بات ہے۔

تبصرے